ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بی ایس پی امیدواروں کی چوتھی اورآخری فہرست مایاوتی نے کی جاری 

بی ایس پی امیدواروں کی چوتھی اورآخری فہرست مایاوتی نے کی جاری 

Sun, 08 Jan 2017 19:09:18    S.O. News Service

لکھنؤ، 8 ؍جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)سربراہ مایاوتی نے اترپردیش اسمبلی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی چوتھی اور آخری فہرست آج جاری کر دی اور بی جے پی پر وزیر اعلی اکھلیش یادو اور ان کے چچا رام گوپال یادو کو ساتھ ملا کر کانگریس سے اتحاد کراکر خود انتخابی فائدہ اٹھانے کی سازش کا الزام لگایا۔بی ایس پی نے آج 101امیدواروں کی فہرست کے ساتھ کل 403میں سے 401سیٹوں پراپنے امیدوار وں کا اعلان کردیا ہے ۔سون بھدر ضلع کی دو باقی بچی سیٹوں پر امیدواروں کے ناموں کا اعلان تبھی کیا جائے گا ، جب یہ طے ہو جائے گا کہ وہ ریزرو سیٹیں تو نہیں ہیں۔پارٹی امیدواروں کی چوتھی فہرست جاری کئے جانے کے بعد بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے ریاست کے تمام 403اسمبلی حلقوں کے سینئر عہدیداروں کے اجلاس میں الزام لگایا کہ بی جے پی وزیر اعلی اکھلیش اور رام گوپال کو ساتھ میں کر کے ان کو کانگریس کے ساتھ مل کر الیکشن لڑانے کی سازش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ایس پی کے دو خیموں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے ان کا ووٹ بینک بھی تقسیم ہو جانے کے پیش نظر عوام کو ان دونوں خیموں کو الگ الگ ووٹ دے کر اسے خراب نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے بی جے پی کو فائدہ ہوگا، بی ایس پی کارکنوں کو یہ بات اپنے اپنے علاقوں میں جا کر بتانی ہوگی۔مایاوتی نے کہا کہ اجلاس میں کارکنوں کو ایس پی، کانگریس اور بی جے پی کی طرف سے اپنے انتخابی فائدہ کے لیے استعمال کئے جا رہے سام دام، ڈنڈ ، بھید وغیرہ ہتھکنڈ و ں کے بارے میں ہوشیار رہنے کی معلومات دی جائے گی، تاکہ بی ایس پی کو کسی بھی طرح کا کوئی سیاسی نقصان نہ ہو۔انہوں نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ باقی 113سیٹوں پر اعلی ذاتوں کو ٹکٹ دئیے گئے ہیں، ان میں براہمنوں کو 66، چھتریوں کو 36، کائستھ، ویشیہ اور سکھ برادری کے 11افراد کو امیدوار بنایا گیا ہے۔مایاوتی نے کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کے لوگ بی ایس پی پر نسل پرست پارٹی ہونے کا الزام لگاتے ہیں، لیکن پارٹی نے سماج کے تمام طبقوں کے لوگوں کو ٹکٹ دے کر ثابت کردیا ہے کہ وہ نسل پرست بالکل بھی نہیں ہے۔مسلمانوں کا متحد ووٹ کسی بھی سیاسی منظرنامہ کو تبدیل کر سکتا ہے،2012میں ہوئے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کی تقریبا متحدہ وو ٹنگ کی وجہ سے ہی ایس پی کو واضح اکثریت ملی تھی ۔


Share: